Showing posts with label Pashawar. Show all posts
Showing posts with label Pashawar. Show all posts

Tuesday, April 20, 2010

پشاور پر بم حملوں کا نیا سلسلہ


صوبہ خیبر پختون خواہ کے دارالحکومت پشاور اور آس پاس کے اضلاع میں گزشتہ چند دنوں سے جاری دھماکوں نے ایک بار پھر صوبہ بھر میں کشیدگی کو جنم دیا ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ شدت پسند ایک بار پھر سرگرم ہوگئے ہیں۔

حالیہ دھماکے اس لحاظ سے بھی تکلیف دہ اور اذیت ناک ہیں کیونکہ عوام یہ سمجھ رہے تھے کہ شاہد شدت پسندوں کا خاتمہ ہوگیا ہے اور اب حالات بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ لیکن تیمرگرہ، سوات، کوہاٹ اور اب پشاور میں ہونے والے دھماکوں سے ظاہر ہوا کہ عسکریت پسندوں کا کنٹرول اور کمانڈ سسٹم بدستور فعال ہے اور وہ کسی بھی مقام کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ وہ اپنے ہدف تک پہنچنے میں بھی بظاہر کامیاب ہورہے ہیں۔

پشاور شہر میں ایک ہی دن میں دو دھماکوں سے پھر وہی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جو تقریباً پانچ چھ ماہ قبل تھی جب شہر میں شدید خوف وہراس تھا اور روزانہ دھماکے ہوتے تھے اور جس سے چند ہی دنوں میں شہر کے کچھ مقامات کھنڈرمیں بھی تبدیل ہوئے تھے۔

پیر کو کلِک پہلا دھماکہ جمرود روڈ پر پولیس پبلک سکول میں ہوا جس میں حکام کے مطابق ایک طالب علم بچہ ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے۔ اس دھماکے کے بعد یونیورسٹی روڈ پر قائم تمام سرکاری اور نجی سکولوں میں اچانک خوف و ہراس پھیل گیا اور بچوں کے والدین سکولوں کی طرف بھاگنے لگے۔ پشاور شہر میں کسی سکول پر دن دھاڑے یہ اپنی نوعیت کا پہلہ حملہ تھا۔ اس دھماکے کی کوریج کےلیے میں بھی جائے وقوعہ پہنچ گیا تھا۔ میں نے خود وہاں دیکھا کہ بچوں کے ماں باپ کا برا حال تھا، دھماکے کی خبر سنتے ہی کوئی دفتر سے بھاگ کر آرہا تھا، کوئی گھر یا دکان سے افراتفری کے عالم میں وہاں پہنچ رہا تھا۔ ان چہروں سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ اپنے لخت جگر کی ایک جھلک دیکھنے کےلیے کتنے بے چین ہیں۔ وہ بس انتہائی دردناک مناظر تھے۔

اس دھماکے کو چند ہی گھنٹے گزرے تھے کہ تاریخی قصہ خوانی بازار میں ایک خودکش حملہ کیاگیا جس سے پورے شہر میں فضا کشیدہ ہوگئی۔ دوسرا دھماکہ جب ہوا تو چند ہی منٹوں کے اندر پورا شہر جام سا ہوگیا، ہر کوئی محفوظ مقام کی جانب بھاگ رہا تھا۔ اس افراتفری کے عالم میں شہر کے زیادہ تر سڑکیں بلاک رہی۔

ان دھماکوں سے قبل کوہاٹ شہر میں دو روز تک شہر کو مسلسل دھماکوں میں نشانہ بنایا گیا جس میں پہلا دھماکہ اورکزئی ایجنسی سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کے ایک رجسٹریشن مرکز میں ہوا جس میں ایک مقامی صحافی عظمت علی بنگش بھی ہلاک ہوئے جبکہ دوسرا دھماکہ بلی ٹنگ کے علاقے میں پولیس تھانہ پر کیا گیا۔ دونوں دھماکوں میں پولیس کے مطابق پچاس کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔

پشاور میں دھماکے ایسے وقت ہوئے جب اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری اٹھارویں ترمیم کے بل پر دستخط کرکے اس کو آئین کا حصہ بنا رہے تھے۔ اس صوبہ کے عوام کےلیے اس ترامیمی بل پر دستخط اس لیے بھی اہم تھی کیونکہ صدر کی طرف سے منظوری کے بعد سے سرکاری ریکارڈ میں باقاعدہ طورپر صوبہ خیبر پختون خواہ لکھا جائے گا۔

گزشتہ پانچ چھ ماہ سے یہ بات بار بار دہرائی جارہی ہے کہ شدت پسند آخری سانسیں لے رہے ہیں، ان کاخاتمہ ہوگیا ہے، وہ مزید کچھ نہیں کرسکتے وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کے اعلانات میڈیا سے بھی اتنی تیزی سے پھیل رہی تھیں کہ عوام کو ایک قسم کا احساس ہوگیا تھا کہ شاہد عسکریت پسند اب دوبارہ کارروائیاں نہیں کرسکتے۔ لیکن کچھ ہفتوں سے شدت پسندوں نے جس دیدہ دلیری سے اہم شہروں میں حملے کیے ہیں اس سے تو بظاہرہوتا ہے کہ وہ اب بھی ایک بہت بڑا خطرہ ہے اور ان کے آپس میں رابطے بھی بحال نظر آتے ہیں۔

نہ جانے کب تک یہ شہر پٹتا رہے گا۔ آخر کب تک، اس شہر کی ایک نسل تو ان ہی دھماکوں اور حملوں میں جوان ہوئی ہے۔

Friday, April 9, 2010

قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر اٹھارویں آئینی ترمیمی بل کی منظوری دے دی


پاکستان کی قومی اسمبلی نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے اور اب یہ بل منظوری کے لیے سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں دو دن کی بحث کے بعد جمعرات کو اٹھارویں آئینی ترمیم کے بل کی شق وار منظوری کا عمل شروع کیا گیا تھا۔

اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے حق میں دو سو بانوے ووٹ پڑے جبکہ کسی نے اس کی مخالفت میں ووٹ نہیں دیا۔

اس سے قبل قومی اسمبلی نے اٹھارویں ترمیم کے بل کو شق وار منظور کیا تھا

حتمی ووٹنگ کے بعد سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ تین سو بیالیس میں سے دو سو بانوے اراکین نے حق میں ووٹ دیا اور چونکہ اس بل کی مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں پڑا اس لیے یہ بل متفقہ طور پر منظور کیا جاتا ہے۔

اس سے پہلے قومی اسمبلی میں جب آئینی بل کی شقوں کی منظوری کا عمل شروع ہوا تو سپیکر کی جانب پہلے ہر شق کا اعلان کیا جاتا اور اس کے بعد اراکین اسمبلی کھڑے ہو کر اس کے حق میں ووٹ دیتے۔

اٹھارویں آئینی ترمیم کے بل کی شق وار منظوری میں اکثریت نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں متعارف کروائی جانے والی سترہویں آئینی ترمیم اور لیگل فریم ورک آرڈر یا ایل ایف او کے خاتمے کے حق میں ووٹ دیا۔

اس شق کی منظوری کے بعد سترہویں آئینی ترامیم کی بیشتر شقیں ختم ہو گئی ہیں۔ ختم ہونے والی شقوں میں صدر اور گورنرز کا اسمبلی توڑنے کا صوابدیدی اختیار ختم کر دیا گیا ہے۔ اٹھارویں آئینی تریم کی شق نمبر دو کے حق میں دو سو اٹھاون اراکین اسمبلی نے ووٹ دیئے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں دو دن کی بحث کے بعد اٹھارویں آئینی ترمیم کے بل کی شق وار منظوری دی گئی۔

اٹھارویں آئینی ترمیم کی منظور کی جانے والی شقوں میں شق نمبر تین بھی شامل ہے۔ اس شق کی منظوری کے بعد صوبہ سرحد کا نام تبدیل ہو کر خیبر پختوانخواہ ہو جائے گا۔ اس شق پر سابق حکمران جماعت مسلم لیگ قاف کے اعتراضات کو مسترد کر دیا گیا ہے۔

اس شق کے حق میں دو سو چونسٹھ اراکین نے ووٹ دیا جب کہ مسلم لیگ قاف کے صرف بیس اراکین نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرنے کی شق پر ووٹنگ کے دوران ہزارہ سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے دو اراکین سردار مہتاب عباسی اور میاں نواز شریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

صوبائی خودمختاری کے حوالے سے وفاق اور صوبوں کے درمیان تمام کنکرنٹ لسٹ ختم کردی گئیں۔

پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہان کی تقرری کا اختیار وزیر اعظم کو منتقل کرنے کی منظوری دی ہے۔

صوبائی گورنر اسی صوبے کے رہائشی ہونے کی منظوری دی گئی۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں سابق حکمران جماعت مسلم لیگ قاف کے اراکین کی تعداد پچاس کے قریب ہے۔گزشتہ روز بحث کے دوران مسلم لیگ (ق) کے اراکین نے صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخواہ رکھنے کی کھل کر مخالفت کی۔ صوبہ سرحد کے ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ق) کے ایک رکن شاہجان یوسف نے ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا تھا۔

مسلم لیگ قاف کی رکن کشمالہ طارق نے خواتین کی نشستیں بڑھانے اور سیاسی جماعتوں کو دس فیصد ٹکٹ خواتین کو دینے کے متعلق آئینی ترمیم پیش کی جو کثرتِ رائے سے مسترد کی دی گئی۔

شق نمبر اڑسٹھ میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور فیڈرل شریعت کورٹ ججوں کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے قیام کے تجویز کی بھی منطوری دے دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ سینیٹر رضا ربانی نے منگل کے روز قومی اسمبلی میں اٹھارویں ترمیم کا بل بحث کے لیے پیش کردیا تھا۔ اس دن اسمبلی کی معمول کی کارروائی روک کر آئینی ترمیم پر بحث شروع کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی۔

اس بارے میں حکومت اور حزب اختلاف نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک اٹھارویں ترمیم کا بل منظور نہیں ہوتا اس وقت تک ایوان کی معمول کی کارروائی معطل رہے گی۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار نے سپیکر سے مخاطب ہوتے کہا کہ یہ پیغام دیں کہ اب صرف آئین اور قانون کے تحت یہ ملک چلے گا اور کوئی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج ہمارے لئے قابل احترام ہے لیکن ہمیں وہ فوج اچھی لگتی ہے جو پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرے۔

انھوں نے کہا کہ ہم کسی ایسی فوج کو قبول نہیں کریں گے جو اپنے ہی ملک پر قبضہ کرے جو پاکستان کے آئین اور قانون کو پامال کرے۔

انھوں نے کہا کہ ہم ایسی فوج کو قبول کرتے ہیں اور نہ ہی آئندہ کے کسی جرنیل کو کندھا دیں گے۔ انھوں نے کہ ’ہم ایک دفعہ مثال قائم کریں کہ بہت ہوگیا ہے (اینف از اینف) ۔‘

انھوں نے کہا آج ہمیں یہ فیصلہ بھی کرنا چاہیے اور اللہ سے عہد کریں کہ آئندہ کوئی سیاست دان کسی فوجی آمریت کو کندھا نہیں دے گا۔

انھوں نے کہا کہ جس طرح پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے میثاق جمہوریت پر دستخط کرتے وقت اس کا اعلان کیا اور قوم سے معافی مانگی اسی طرح سے دوسری جماعتیں بھی اگر قوم سے معافی نہ مانگیں مگر یہ فیصلہ کریں کہ کوئی سیاست دان اور کوئی پاکستانی فوجی آمریت کو کندھا فراہم نہیں کرے گا۔

انھوں نے کہا آج اہم دن ہے کیوں کہ آج سترہویں ترمیم کا کالا قانون ختم کرنے کے لئے اس ایوان کے تین سو اراکین متفق ہوئے اور اس کالے قانون کو ختم کیا۔

انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے مشکل ترین حالات میں حکومت کی اور آج وزیر اعظم ان کی جماعت کے ساتھ اس ایوان کے تقریباً تین سو اراکین اکٹھے ہوئے اور ایک متفقہ آئین پر دستخط کیا۔