Showing posts with label Lahore. Show all posts
Showing posts with label Lahore. Show all posts

Tuesday, September 21, 2010

KRL, WAPDA, PEL, Army get victories

Four matches were decided in the Pakistan Premier Football League (PPFL) as defending champions KRL and Wapda, PEL and Pakistan Army gained full three points at Peshawar, Faisalabad, Lahore and Rawalpindi respectively on Saturday.

KRL recorded one goal in each session to beat PAF 2-0 at Qayyum Stadium Peshawar Cantt. Samar Ishaq-led team dominated the show and gave no room to the airmen. Lanky Winger Muhammad Qasim broke the deadlock in the 37th minute as Rawalpindi-based team lead 1-0 at interval.

Other winger Kalim Ullah Khan made it 2-0 in the 62nd minute when he side stepped three markers to seal the fate of the match.

Army came out winner with last-ditch goal.The all-services clash between Navy and Army turned out to be listless affair as both teams relied too heavily on defensive tactics and moves were far and few in between at Municipal Stadium Rawalpindi. The all important goal was scored by wing full back Umar Daraz in the final minute of the game.

PMC Athletico Faisalabad failed to oppose all out pressure of 7-Time Champions Wapda at Agriculture University Ground of Faisalabad and suffered 0-3 defeat. Wapda had an easy game and they wrapped up the game within 35 minutes, scoring thrice. Skipper Arif Mehmood slammed two goals in the second and 14th minute and it was left to winger Imran Niazi to add the third in the 35th minute. Wapda led 3-0 at interval and second half remained barren.

PEL managed their first win when once again their substitute Asmat Ullah netted precious goal in the closing minutes as Lahore outfit registered 2-1 win over Sahiwal’s Young Blood at Model Town Football Academy Ground, Lahore.

PEL opened the scoring through Midfielder Muhammad Rashid in the 11th minute from the penalty-mark. FIFA Referee Rana Naseer Ahmed penalized reckless challenge of Young Blood skipper Naeem Riaz against PEL’s winger Waqas Ahmed and pointed to the spot.

Young Blood came back strongly and drew level within 45 seconds when their spearhead Asim Mansoor lifted the ball over advancing keeper Saqib Hanif.

It was 1-1 at interval and substitutes engineered PEL’s winner in the 72nd minute. Muzaffar Ali swept well flighted ball from right flank and Asmat Ullah was on hand to head it past Muzammil.

Sunday’s matches, PIA v NBP (CDGK Stadium, Karachi 4 PM), SSGC v KPT (KPT - Benazir Sports Complex, Karachi 4 PM), KESC v HBL (Peoples Sports Complex, Karachi 4 PM).—APP

Friday, August 13, 2010

PU BA, BSc registration for exams 2011

PU extends time period for registration for BA, BSC till 31 August

Lahore, Aug 05: Punjab University (PU) has extended time period for registration of private students in BA, BSC till 31 August. As per details, Punjab University has extended the time period for registration of private students for examination 2011, till 31 August with double fees of Rs 3700.

The Nation

Monday, August 9, 2010

BISEs to charge Rs450 for matric certificate

Lahore: The cash-starved boards of intermediate and secondary education have imposed a Rs450 fee on each student, who has qualified the matriculation annual examination and wants a certificate.

All the eight boards were crying hoarse since the chief minister had directed the boards not to charge any fee from students appearing from public sector schools.

The financial position of boards further weakened with the announcement of 50 per cent increase in salaries and 15 per cent in medical allowance of employees.

To improve financial position of boards, the Punjab Boards Committee of Chairmen decided to impose Rs450 fee for issuing a certificate to successful students.

The Lahore board alone is expected to generate some Rs57.04 million from private as well as public sector schools' students. As many as 126,753 candidates have passed the matriculation annual examination from the Lahore board.

Board officials say boards were autonomous entities and could take measures and charge students to generate resources and save themselves from going bankrupt. They say the decision was taken in a recent meeting of the Punjab Boards Committee of Chairmen.

Students of public sector schools have condemned the boards' decision alleging that the boards had taken the decision in clear negation of Chief Minister Shahbaz Sharif's vision of supporting the poor strata of society to seek education without any financial burden.

It is learnt that some students' parents had also approached boards' offices requesting them to waive off this fee as they would be required to pay for every service, including purchasing prospectuses of different colleges and getting admissions to colleges to seek higher education.

Saturday, May 29, 2010

احمدی مراکز پر حملے، بیاسّی افراد ہلاک

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں مختلف مقامات پر احمدیوں کی دو عبادت گاہوں پر مسلح افراد کے منظم حملوں میں بیاسی افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور ایک سو سے زائد زخمی ہیں۔

ادھر پنجاب کے وزیرِ قانون نے ان حملوں کو سکیورٹی اداروں کی کوتاہی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ آور وزیرستان سے دس دن قبل لاہور آئے تھے۔

ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات لاہور سے ایک سو کلومیٹر دور چناب نگر میں ادا کی جائیں گی ۔ جماعت احمدیہ کے ترجمان کے مطابق جیسے جیسے لواحقین اپنی میتوں کو لے کرآئیں گے ان کی آخری رسومات ادا کر دی جائیں گی۔

یہ حملے جمعہ کی دوپہر لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن اور گڑھی شاہو میں اس وقت ہوئے جب احمدیوں کی ایک بڑی تعداد مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے ان مراکز میں جمع تھی۔

مقامی پولیس حکام کے مطابق تین مسلح افراد نے ماڈل ٹاؤن کے سی بلاک میں واقع احمدی مرکز میں داخل ہو کر فائرنگ کی جبکہ اسی دوران پانچ سے چھ مسلح افراد گڑھی شاہو میں واقع عبادت گاہ میں گھس گئے اور وہاں موجود افراد پر فائرنگ کی اور انہیں یرغمال بنا لیا۔

یہ دونوں عبادت گاہیں ایک دوسرے سے قریباً پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں ۔

لاہور میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار عباد الحق کے مطابق ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ ماڈل ٹاؤن میں ہونے والے حملے میں تیئیس افراد موقع پر ہی ہلاک اور انتالیس زخمی ہوئے۔ اس حملے کی اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور مقابلے کے بعد عمارت میں موجود افراد کو باہر نکالا جبکہ ایک حملہ آور کو ہلاک جبکہ دو کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار کیے جانے والے افراد میں سے ایک نے خودکش جیکٹ پہن رکھی تھی تاہم وہ دھماکہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

لاہور کے کشمنر خسرو پرویز خان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ ماڈل ٹاؤن حملے کے بعد دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان ابتدائی طور پر جو شواہد ملے ہیں ان میں اسلحہ اور خودکش جیکٹس شامل ہیں۔

لاہور کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر سجاد بھٹہ کے مطابق گڑھی شاہو میں دو خودکش حملہ آوروں نے عبادت گاہ میں داخل ہو کر دھماکے کیے جبکہ ان کے دیگر ساتھی عمارت کی چھت اور مینار پر چڑھ گئے اور وقفے وقفے سے پولیس پر فائرنگ کرتے رہے۔

تاہم پولیس نے دوگھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی کے بعد ان حملہ آوروں کو ہلاک کر کے عمارت کا کنٹرول سنبھال لیا۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق گڑھی شاہو میں خودکش دھماکوں اور حملہ آوروں کی فائرنگ سے چونتیس افراد موقع پر ہی مارے گئے جبکہ چوہتر کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ صوبہ پنجاب کے ڈائریکٹر ہیلتھ فیاض رانجھا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان دونوں حملوں میں زخمی ہونے والے کئی افراد نے ہسپتال میں دم توڑ دیا ہے اور اب ہلاکتوں کی کل تعداد بیاسی تک پہنچ گئی ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں جماعتِ احمدیہ لاہور کے امیر اور احتساب عدالت کے سابق جج منیر اے شیخ بھی شامل ہیں۔

وزیراعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف نے جمعہ کی رات ہسپتال جا کر ان حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی۔ اس موقع پر انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ متعلقہ حکام کو اس واقعے کی رپورٹ سنیچر کو پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ادھر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہا ہے کہ لاہور حملے سکیورٹی اداروں کی کوتاہی کی نتیجہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد چھ کے قریب تھی اور وہ جنوبی اور شمالی وزیرستان سے دس زور قبل لاہور آئے تھے۔

رانا ثناء اللہ خان کے بقول ’حملہ آور لاہور میں اس جگہ پر رہے جہاں سے لوگ تبلیغ کے لیے جاتے ہیں اور جہاں سے لوگ پورے ملک میں اللہ کا پیغام پھیلاتے ہیں اور وہیں سے ان کے ہینڈلر نے نہیں لیا اور حملوں کی جگہ پر پہنچایا‘۔

لاہور پولیس نے قتل ، اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے علاوہ دیگر فوجداری دفعات کے تحت ان حملوں کے الگ الگ مقدمات درج کرلیے ہیں۔ ایک مقدمہ تھانہ ماڈل ٹاؤن میں درج کیا گیا ہے اور اس کے مدعی کرنل ریٹائر انور ہیں۔ اس مقدمہ میں دو افراد یعنی عبداللہ عرف محمد اور امیر معاویہ کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزم نامعلوم ہیں۔ ایس پی سول لائنز حیدر اشرف کے مطابق گڑھی شاہو حملے کے بارے میں مقدمہ چودھری منور نے چھ نامعلوم افراد کے خلاف درج کروایا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں جماعت احمدیہ کو سنہ انیس سو چوہّتر میں پارلیمان نے غیر مسلم قرار دیدیا تھا اور بعد میں جنرل ضیاءالحق کےدور میں آنے والے ایک نئے قانون امتناع قادیانیت آرڈیننس کے تحت ان پر مزید پابندیاں عائد کی گئیں۔جماعت احمدیہ کا ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے اراکین کو پاکستان میں شدید مذہبی تعصب کا سامنا ہے اور متعدد بار ان کی عبادت گاہوں پر حملے ہوچکے ہیں اور ہر سال ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں احمدیوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔

Friday, May 28, 2010

لاہور میں احمدی مراکز پر حملے، 42 ہلاک

لاہور میں مختلف مقامات پر احمدیوں کی دو عبادت گاہوں پر مسلح افراد نے حملہ کیا ہے دستی بم پھینکے ہیں اور فائرنگ کی ہے جس سے بیالیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق مسلح افراد نے دنوں عبادت گاہوں میں موجود احمدیوں کو یرغمال بنالیا ہے۔

حملوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والے ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایمبولنس سروس کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملوں میں تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے لاہور انتظامیہ اور ریسکیو کے عملے کے ایک اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ حملوں کا نشانہ بننے والے ایک مرکز میں سولہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ حملوں کا نشانے بننے والے ایک مرکز میں بیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

حملوں میں چالیس افراد زخمی بھی ہوئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ حملہ بیک وقت دوپہر تقریبادو بجے کیے گئے۔

پہلے دستی بموں کے حملے ہوئے اس ساتھ ہی مسلح افراد ماڈل ٹاؤن اور گڑھی شاہو میں احمدیوں کی عبادت گاہوں میں داخل ہوگئے۔

یہ دونوں عبادت گاہیں ایک دوسرے سے کوئی پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں اور احمدی یہاں پر جمعہ کی عبادت کے لیے جمع ہوئے تھے جب حملہ آور اندر داخل ہوئے۔

ان واقعات میں چند افراد کی ہلاکت اور زخمی کی اطلاعات ملی ہیں لیکن ابھی سرکاری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

ماڈل ٹاؤن میں پولیس نے مقابلے کے بعد عبادت گاہ میں سے احمدیوں کو نکال لیا گیا ہے۔انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس طارق سلیم ڈوگر نے گڑھی شاہو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ماڈل ٹاؤن میں صورتحال بڑی حد تک کنٹرول میں آچکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ ایک شدت پسند مارا گیا ہے اور دو گرفتار ہوگئے ہیں ان میں سے ایک زخمی حالت میں ہے۔

جناح ہسپتال کے مطابق عملے کے مطابق بیس کے قریب زخمی اور ہلاک ہسپتال لائے گئے اور تمام کے جسم پر گولیاں لگنے کے زخم ہیں۔

آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ ان کی پہلی ترجیح شہریوں کو بحفاظت عبادت گاہوں سے باہر نکالنا ہے۔گڑھی شاہوپولیس آپریشن کے لیے بکتر بند گاڑیاں بھی پہنچ گئی ہیں اور پولیس اہلکار ان کے ذریعے عبادت گاہ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔

پاکستان میں جماعت احمدیہ کو سنہ انیس سو تہتر میں پارلیمان نے غیر مسلم قرار دیدیا تھا اور بعد میں جنرل ضیاءالحق کےدور میں آنے والے ایک نئے قانون امتناع قادیانیت آرڈیننس کے تحت ان پر مزید پابندیاں عائد کی گئیں۔جماعت احمدیہ کا ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے اراکین کو پاکستان میں شدید مذہبی تعصب کا سامنا ہے اور متعدد بار ان کی عبادت گاہوں پر حملے ہوچکے ہیں اور ہر سال ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں احمدیوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔